فی البدیہہ تقریر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وہ تقریر جس کی تیاری پہلے سے نہ کی گئی ہو۔ "وہ ہمیشہ فی البدیہہ تقریر کرتے اور کبھی تیاری نہ کرتے۔"      ( ١٩٥٥ء، نیم رُخ، ٩٤ )

اشتقاق

عربی حرف جار 'فی' کو حرف تخصیص'ا ل' کے ذریعے عربی سے ماخوذ صفت بدیہہ کے ساتھ ملا کر حاصل ہونے والے مرکب 'فی البدیہہ' کے بعد عربی باب تفضیل سے کے وزن پر اسم 'تقریر' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٥٥ء کو "نِیم رُخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ تقریر جس کی تیاری پہلے سے نہ کی گئی ہو۔ "وہ ہمیشہ فی البدیہہ تقریر کرتے اور کبھی تیاری نہ کرتے۔"      ( ١٩٥٥ء، نیم رُخ، ٩٤ )

جنس: مؤنث